h1

جواب آں غزل ۔ یاسر پیرزادہ کی خدمت میں

January 16, 2014

(تحریر: فراز صدیقی، پی ایچ ڈی اسکالر، اسلام آباد)

بارہ جنوری کے روزنامہ جنگ میں میرے پسندیدہ کالم نگار یاسر پیرزادہ صاحب کا کالم،‘‘ آمریت کے تین مغالطے’’ نظر سے گذرا۔ کالم پڑھنے کے بعد مجھے گمان گزرا کہ شاید یہ تحریر میاں نواز شریف کے اس زر خریدکی ہے، جس کے کالم کی ہر تان نواز شریف کی مدح سرائی یا پرویز مشر ف صاحب کے خلاف زہر اگلنے پر ہی ٹوٹتی ہے اور تحریر کے درمیان میں سوائے اردو کی بہترین لفاظی کے کچھ نہیں ہوتا۔ مجھے گمان گذرا کہ شاید قلم فروش عرفان صدیقی کے کالم پر غلطی سے یاسرپیرزادہ کی لوح لگ گئی ہے ،لیکن جب فیس بک پر پیرزادہ صاحب نے اپنے اکاؤنٹ سے اس کالم کو اپ لوڈ کیا تو مجھے شدید دکھ اور افسوس ہوا کہ ا ب پیرزادہ صاحب جیسے لوگوں کے قلم سے اسطرح کے دلیل سے عاری ،تعصبی جذبات سے بھرپوررہیٹورک کالم پڑھنے کو ملیں گے۔

Yasir Pirzada

موصوف نے اپنے کالم کا آغاز انتہائی قابل احترا م سائنسدان اوراستاد پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب پر بالواسطہ طنزیہ تمہید سے کیا ہے ، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ پیرزادہ صاحب، استاد کو جو رتبہ اور مقام خدا نے عطاء کیا ہے، شاید تعصب کی نگاہ اور ذہن رکھتے ہوئے آپ اس مرتبے کو بھول گئے۔ عطاء الرحمن اور پرویز ہودبھائی جیسے قابل فخر اساتذہ کی سیاسی رائے سے اختلا ف کیا جا سکتا ہے، لیکن تحقیق اور علم کی ترویج کے لئے ایسے لوگوں کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔ اگر آپ علم نہیں رکھتے تو ڈاکٹر عطاء الرحمن کے سی وی کو ایک نظر ملاحظہ کر لیں اور دیکھیں کہ پاکستان کے اس سپوت نے سائنس کی دنیا میں کیا کیا کار ہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔نا صرف سائنس کی دنیا میں بلکہ وطن عزیز میں اعلی تعلیم کے لئے ڈاکٹر صاحب کی خدمات سے انکار کرتے ہوئے حقارت اور طنز سے انکا ذکر ایک تعصب سے لبریز ذہن ہی کر سکتا ہے کوئی علم دوست شخص نہیں۔

Dr. Ata-ur-Rehman II

آپکو ڈاکٹر صاحب پر شاید غصہ اس وجہ سے ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اعداد و شمار کے ذریعے صدر مشرف کے بہترین دور کو لوگوں کی یادداشت میں واپس لانے کی کوشش کی ہے۔وہ مشرف جو آپ کی، آپکے والد عطاء الحق قاسمی اور انکے سیاسی والد میاں نواز شریف کی آنکھوں میں اس بری طرح کھٹکتا ہے کہ مشرف صاحب کا نام پڑھ کر ہر طرح کی دلیل، منطق اور عقل اڑنچھو ہو جاتی ہے اور رہ جاتی ہے خالی خولی لفاظی جسکا مظہر، ‘‘ آمریت کے تین مضالطے’’ جیسی بوگس تحریریں ہیں۔

یاسر صاحب! اب آتے ہیں جناب کے کالم کا پوسٹ مارٹم کرنے کی طرف۔

قابل احترام استاد ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب کا طنزیہ اور حقارت آمیز تذکرے کے بعد موصوف فرماتے ہیں کہ،
‘‘فرض کر لیتے ہیں کہ مشرف دور اچھا تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ناجائز بچے کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟ناجائز اولاد ناجائز ہی ہوتی ہے چاہے کتنی خوبصورت ہو ۔’’

محترم! ذرا مجھے یہ بتائیے کہ ناجائز بچہ (فوجی دور) زیادہ قابل نفرت ہے یا اسکو دنیا میں لانے والے (نا اہل او رجاہل سیاستدان)؟ رہی بات نا جائز کو جائز قرار دینے کی، تو ناجائز اولاد‘‘ چوھدری افتخار میٹرنٹی ہوم’’ سے اپنا پیدائشی سرٹیفیکیٹ اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی جائز اور تصدیق شدہ ولدیت بھی لے آئی تھی ، اور چونکہ یہ سب آئین اور قانون کے تحت صحیح ہوا تھا تو اس پر موجودہ حکومت کو بھی کوئی اعتراض نہیں اور موجودہ حکومت میں کوئی اور نہیں بلکہ آپکے سیاسی اجداد براجمان ہیں۔ اسی لئے چوہدری افتخار میٹرنٹی ہوم میں بیٹھے ہوئے اس وقت کے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی بلکہ میرنٹی ہوم کے مالک ،جس نے ناجائز اولاد کو ولدیت دی، کو بچانے کیلئے مشرف صاحب کے ٹرائل کے ڈرامے کو تین نومبر سے شروع کیا جا رہا ہے کہ کہیں ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو۔

اسکے بعد موصوف رقم طراز ہیں، ‘‘آئین توڑ کر اپنی مرضی کا پی سی او نافذ کرنا اور عدالتوں سے گن پوائنٹ پر اپنی وفاداری کا حلف لینا۔۔۔۔’’

حضور ذرا یہ توبتائیں کہ یہ خبر کب رپورٹ ہوئی کہ پی سی او کا حلف گن پوائنٹ پر لیا گیا تھا؟؟؟؟ اس طرح کی بے سروپا باتیں کر کے آ پ کسی ناجائز کو جائز قرار دینے والے کو بچانے کی کوشش تو نہیں کر رہے ؟؟؟ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو، بھائی کو سنگسار نہ کرو، بھائی کی ناجائز اولاد کو مار دو ۔۔۔۔ واہ میرے شیر۔ ہور کی حال اے؟؟؟؟

بارہ اکتوبر کے بعد کی عدالتوں نے جن میں موصوف افتخار محمد چوہدری مدظلہ ،جن کے دامن کو نچوڑیں تو فرشتے وضو کریں، بھی شامل تھے خوشی خوشی پی سی او پر حلف اٹھایا تھا،کسی نے کسی سے گن پوائنٹ پر حلف نہیں اٹھایا۔ جن کو اپنے حلف کی آبرو کا احساس تھا انہوں نے پی سی او پر حلف اٹھانے سے گریز کیا اور با عزت ریٹائر ہوئے اور جن کی آبرو باختہ کوکھوں نے ناجائز اولاد وں کوجنم دینا تھا انہوں نے خوشی خوشی اپنا یہ کردار قبول کیا، افتخار محمد چوہدری سمیت اس وقت کی عدلیہ نے پی سی او پر خوشی خوشی حلف اٹھایا ، یاسر بھائی میرے لیڈر پرویز مشرف پر اگر ایک انگلی اٹھائی جاتی ہے تو باقی تینوں انگلیوں کا رخ آپکے قبیلے کی طرف ہوتا ہے۔ سمجھے میرے بھائی۔۔۔۔ہور کی حال اے؟؟؟؟

اسکے بعد موصوف نے دوسرا مغالطہ بیان کیا کہ اور ایک لمبی چوڑی فضول تمہید باندھتے ہوئے کہا کہ اگر فوجی چاند توڑ کر لادے تو بھی مجھے قبول نہیں اسکے بعد خود کو اٹھارہ کروڑ عوام سمجھتے ہوئے فتوی صادر کر دیا کے پاکستان کی عوام کو بھی فوجی حکومت قبول نہیں چاہے وہ کچھ بھی کر دے۔۔۔

Hassan Nisar

یاسر پیرزادہ صاحب۔۔۔ عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ آپکے سیاسی آباؤ اجداد کی ننگی جمہوریت ہو یا فوجی حکومت۔ہمیں اپنی ترقی چاہئے ۔اپنے مسائل کا حل چاہئے جن کو یقیناًپرویز مشرف نے حل کیا تھا آپکے سیاسی آباؤ اجداد ضیاء دور سے عوام کی ہڈیاں نچوڑ رہے ہیں اور ان کے پیٹ ہیں کہ نا بھر رہے ہیں نا پھٹ رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ آپ کے گھرانے کو جمہوریت کی فیوض و برکات کے نتیجے میں کہیں کی سفارتکاری ملی ہو لیکن عوام کو اس ننگی اور بے شرم جعلی جمہوریت سے کچھ نہیں ملا ۔ ہمیں مشرف دور میں نوکریاں ملیں ، اسکالرشپس ملیں، ہمارا زندگی کا رہن سہن کا معیار حد درجے بہتر ہوا، بنک ہمیں فون کر کے قرضے آفر کرتے تھے ، ہم موٹر سائیکل سے کار پر آگئے ، درمیانے درجے سے اعلی درمیانے درجے کے ہوگئے ، اس دور میں ہماری قوت خرید بڑھی، ہماری سیونگز بڑھیں، ہمیں سی این جی پورے ہفتے ملتی تھی کبھی لائن میں لگے ذلیل نہیں ہونا پڑا، گیس و بجلی لوڈ شیڈنگ نہیں تھی ،ڈیم بن رہے تھے،یونیورسٹیز بن رہی تھیں ،پاکستان کا اسٹاک ایکسچینج بلندیوں کو چھو رہا تھا،ہائی ویز کا جال بچھایا جا رہا تھا، صنعتیں ترقی کر رہی تھیں، دفاع مضبوط سے مضبوط ہو رہا تھا، میڈیا اور ٹیلی کمیونیکیشن تیزی سے ترقی کر رہا تھا،غیر ملکی سرمایہ دھڑا دھڑ آرہا تھا، میں نے کئی دفعہ مشرف صاحب کے منہ سے سناکہ خزانہ میں پیسہ بہت ہے پروجیکٹ بتاؤکون سا شروع کرنا ھے۔ دوسری طرف، کسی جمہوری حلالی کے منہ سے میں نے خزانہ خالی ہونے کی دہائی کے علاوہ کبھی کچھ نہیں سنا۔ پہلے ہمارے پاسپورٹ کی دنیا میں عزت تھی ، ہمارے ملک کے اس وقت کے سربراہ اور میرے قائدپرویز مشرف کی دنیا میں آج تک عزت ہے، جبکہ آپکے سیاسی آباؤاجداد کو غیر ملک چھوڑیں ،کبھی کسی ملکی یونیورسٹی نے اس قابل نہیں سمجھا کہ اسے لیکچر دینے کیلئے بلائیں۔ میرا قائد پرویز مشرف، غیر ملکی قائدین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرتا تھا، جبکہ آپکے سیاسی جد امجد کی امریکی صدر کے سامنے پرچیاں پڑھنا بذات خود ایک شرم کا مقام ہے کہ کیسا شخص اس ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہے۔رہی بات مسخ شدہ لاشوں کی ، تو آپکے پاس کو ئی ثبوت نہیں کہ مسخ شدہ لاشیں فوج کی طرف سے آتی ہیں۔عین ممکن ہے کہ ایسی حرکتیں علیحدگی پسند فوج کوبدنام کرنے کیلئے خودکرتے ہوں ۔۔۔ ہو رکی حال ہے؟؟؟

اسکے بعد میرے پسندیدہ کالم نگار نے بڑے مزے کی بات کی ہے کہ ،‘‘جس سوشل کانٹریکٹ کا میں حصہ ہوں وہ مجھے اپنے نمائندے چننے کا اختیار دیتی ہے ۔۔۔۔’’

یاسر بھائی! آ پ کو خدا کا واسطہ، اپنے دل پر ہاتھ رکھیں اور ایمانداری سے یہ بتائیں کہ موجودہ حکومت کتنی جمہوری اور آئینی ہے؟ اتنی کہ اگر عمران خان انگوٹھے چیک کرنے کا مطالبہ کرے توان کی شلواریں گیلی ہوجاتی ہیں ، نادرا کے چیئرمیں کو جبری برطرف کیا جاتا ہے جب وہ عدالت جاتا ہے اور اسے با عزت بحال کر دیا جاتا ہے تو دھمکیاں دے کر سبکدوش ہونے پر مجبور کر دیا جاتا ہے ، یہ ہے آپکی جمہوریت اور آپکے نمائندے یاسر پیرزادہ صاحب؟ موجودہ حکومت ایک جعلی خودساختہ حکومت ہے،جسکا جنم بھی اتفاق سے افتخار چوہدری میٹرنٹی ہوم کا مرہون منت ہے، جس کا جمہوریت سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں۔ ان ڈھکوسلوں سے آپکا دل بہل سکتا ہوگا ہمارا نہیں، آپکو ایسی جمہوریت کے حق میں کلمہ خیر کہنے سے شائد سفارتکاری وغیرہ دوبارہ مل سکتی ہے۔ مگر اس غریب عوام کو کچھ نہیں ملنا، دوسری بات غریب لوگوں کا لیڈ ر کبھی کوئی سرمایہ دار،جاگیردار یا صنعتکار ہو سکتا ہے ؟؟ کیا بات کرتے ہیںیاسر صاحب آپ؟؟؟

اسکے بعد یاسر صاحب ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب سے ایک سوال داغ دیتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر صاحب کا بیٹا غائب ہو جائے تو کیا وہ ڈالر باسٹھ روپے کا ہونے کا جشن منائیں گے؟؟؟؟

میرا سوال یاسر پیرزادہ سے یہ ہے کہ میں اور آپ کیوں گم شدہ افراد کی فہرست میں شامل کیوں نہیں؟ یا میرے اور آپ کے ارد گرد جتنے لوگ ہیں ان میں دور دور تک کوئی لا پتہ فرد شامل نہیں ایسا کیوں ہے؟ سیدھا جواب یہ ہے کہ میں نے اور آپ نے ایسی کوئی حرکت ہی نہیں کی جسکے نتیجے میں ملکی دفا ع پر مامور ایجنسیاں ہماری طرف متوجہ ہوں۔ یہ لا پتہ افراد جب گل کھلا رہے تھے ان کے گھر والوں کو اس وقت ان کی فکر ہونی چاہئے بعد میں لکیر پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، ببول کے درخت پر گلاب نہیں اگتے ، جیسی کرنی ویسی بھرنی ، میرا کامل یقین ہے کہ اس ملک کی ایجنسیاں جب تک پکی معلومات نا ہوں کسی پر ہاتھ نہیں ڈالتیں۔ شریف لوگ آج بھی اپنے گھروں میں آرام سے اپنی فیملیز کے ساتھ رہ رہے ہیں۔جیسا کہ ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب کے بچے، میں اور آپ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

یاسر بھائی! ذرا مجھے آپ یہ بھی بتا دیں کہ پاکستان کی آبادی کا کتنا فیصد اس وقت لا پتہ ہے؟؟؟یقیناًیہ شرح اعشاریہ صفر صفر صفر صفر ایک فیصد سے بھی کم ہو گی، جناب کیا دور کی کوڑی لائے ہیں کہ چونکہ اٹھارہ کروڑ عوام میں سے دو ڈھائی سو بندہ غائب ہے اسلئے ہم یہ نتیجہ اخذ کر لیں کہ مشرف نے کچھ نہیں کیا اور مشرف کے تمام اچھے کام جن کا ذکر ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب نے اپنے کالم میں کیا اسے بہ یک جنبش قلم مسترد کردیں۔ معذرت کے ساتھ یاسر صاحب ،ہمارے باپ کی سفارتکاری مشرف صاحب نے نہیں چھینی اور ہم نا شکرے بھی نہیں۔اس لئے آپکی اور ن لیگ کی ہمنوائی ممکن نہیں، میرے لیڈر پرویز مشرف نے اس ملک کواپنے خون پسینے سے ترقی دی ،جسے آپکے سیاسی آباؤ اجداد نے پھر ایڑیاں رگڑنے پر مجبور کر دیا ہے ۔۔۔ ڈالر ۸ سال تک باسٹھ روپے پر برقرار رکھنا مشرف حکومت کا یقیناًایک کارنامہ تھا جسکا ہر معاشی شد بد رکھنے والا شخص اعتراف کرتا ہے ، آپکے مسترد کرنے سے کچھ نہیں ہوتا میرے بھائی ۔میرا لیڈر پرویز مشرف ایک انتہائی باصلاحیت شخص ہے جسکی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ، اور انشاء اللہ وہ دن اللہ جلد لائے گا جب وقتی فرعونوں کی نام نہاد عدالتوں سے میرا لیڈر سرخرو ہو کے باہر نکلے گا اور اس ملک کی دوبارہ خدمت کرے گا۔ گاؤدی اور چغد لوہار وں کو لیڈر بنانے سے بہتر ہے پاکستان فوج کے سپہ سالار کو اپنا لیڈر بنایا جائے اور میں اس میں فخر محسوس کرتا ہوں۔

Dr. Ata-ur-Rehmanآخری گزارش یہ ہے جناب پیرزادہ صاحب کہ کاش اس ملک میں واقعی عدالتی نظام شفاف ہو جائے ۔اگر ایسا ہو جائے تو آپ کے نام نہاد جائز جمہوری سپوتوں کی ہڈیوں کو بھی اس پاک سرزمین میں دفن ہونے کے جگہ نہیں ملے گی کہ انکے جرائم کی فہرست نہایت بھیانک ہے۔۔۔

جئے مشرف۔۔صدا جئے۔۔ہور کی حال اے یاسر بھائی۔۔۔

بشکریہ: سالار ملت بلاگ

About these ads

2 comments

  1. IN MY OPINION DR ATAUL RAHMAN IS TRUE MAN OR MAN OF GOD I APRESHED HIM


  2. فراز صدیقی صاحب آپ کا تفصیلی ” جواب آں غزل ” پڑھ کے دل خوش ہوگیا ۔ در اصل اس قسم کے منہ توڑ جواب ہی وقت کی ضرورت ہیں تاکہ ہمارے معاشرے میں مختلف شعبوں میں جو ” گھس بیٹھیے ” ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں ان کا صفایا کیا جاسکے۔ میں آپ کو اس کاوش پر مبارک باد دیتا ہوں ۔ آخر میں ایک شکایت کہہ لیں یا گزارش سمجھ لیں ۔۔۔۔ یہ جو ہم لوگ اکثر مروت اور رواداری میں یہ جملہ لکھ دیتے ہیں کہ میرے پسندیدہ کالم نگار ، قابل فخر دانشور یا معروف فلاں فلاں ہمیں اس سے بھی جان چھڑانے کی ضرورت ہے کس بات کے پسندیدہ کالم نگار ہیں جھوٹ لکھنے کے غیر منطقی باتیں اور معاشرے میں ابہام پیدا کرنے کے ۔ جناب یہ وہ لوگ ہیں جو بقول آپ کے اور بالکل بجا کہ زر خرید اور قلم فروش ہیں ان کے لیئے یہی لکھا جائے گا تو ان کی عقل ٹھکانے لگے گی



Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 91 other followers

%d bloggers like this: