Archive for January, 2014

h1

پرویز مشرف کے خلاف اوریا مقبول جان کے کالم ‘‘امت مسلمہ کا مجرم’’ کا جواب

January 22, 2014

بزعم خود، قوم کے مصلح اور مذھبی فکر کے داعی جناب اوریا مقبول جان نے مورخہ ۱۱ جنوری 2014ء کو اپنا گمراہ کن کالم بعنوان ’’امت مسلمہ کا مجرم‘‘ لکھا اور سابق صدر پرویز مشرف کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ موصوف اس سے پہلے بھی سابق صدر کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالتے رھے ھیں۔ اظہار رائے ان کا حق ھے، اور اس سے انہیں کوئی محروم نہیں کر سکتا۔ البتہ جب کالم نگار اپنے قلم کو مذھب کی سیاھی میں ڈبو کر کسی کی کردار کشی پر اتر آئیں اور قارئین کو جذباتی طور پر یرغمال بنا کر حقائق مسخ کرنے یا انہیں توڑ مروڑ کر پیش کریں، تو اس کا جواب تحریر کرنا، اور ان کو آئینہ دکھانا ھمارا حق ھے۔

یاد رھے کہ کچھ ماہ قبل، قوم کی ہونہار اور قابل فخر بیٹی ملالہ یوسف زئی کے خلاف موصوف اوریا مقبول جان نے نہایت ڈھٹائی سے ایک فریب آلود کالم لکھا اور اس کے بعد مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ملالہ کے خلاف لوگوں کو اکساتے رھے۔ گزشتہ دنوں، موصوف نے قائد اعظم کی ۱۱ اگست 1947ء کو قانون ساز اسمبلی میں کی گئی معرکتہ الآراء تقریر کو متنازعہ بنانے اور اسے سیکولر طبقے کی سازش قرار دینے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا۔ ملالہ یوسف زئی کے معاملے میں اسی بلاگ پر ایک مدلل جواب تحریر کیا گیااور اوریا مقبول جان کے فریب کا پردہ چاک کیا گیا۔ اسی طرح بیشتر دوستوں نے قائد اعظم کی تقریر کے اصل حوالہ جات، تاریخی اور ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ پیش کئے اور موصوف کو بے نقاب کیا۔اپنی روایتی بد دیانتی کے تسلسل کو جاری رکھتے ھوئے ۱۱ جنوری کے کالم میں اوریا مقبول جان صاحب نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف عوام میں نفرت اور اشتعال دلوانے کے لئے نہ صرف حد درجے دروغ سے کام لیا، بلکہ حسب سابق مذھب کو اپنے اس مزموم مقصد کے لئے استعمال کیا۔ یہ تحریر موصوف کے گمراہ کن کالم کے جواب میں پیش کی جارھی ھے، جس میں ان کو ایک بار پھر آئینہ دکھا یا جائے گا۔

واضح رھے کہ اوریا مقبول جان کو اس بات سے غرض نہیں ھے کہ پرویز مشرف پر چلنے والا مقدمہ کتنا عرصہ چلتا ھے یا اس کا کیا نتیجہ نکلتا ھے، لہٰذا اس تحریر میں اس مقدمے اور اس کے سیاسی، جمہوری یا آئینی نکات اور پہلوؤں پر کوئی گفتگو نہیں کی جائے گی۔

کالم نگار نے اپنی تحریر کا آٖغاز ایمل کانسی کو امریکہ کا دشمن اور پاکستانی قوم کا ھیرو قرار دے کر کیا۔ گویا ان کے نزدیک اس بات کی ھرگز کوئی اھمیت نہیں کہ پاکستان کا کوئی شہری دوسرے ملک میں جا کر قانون کو اپنے ھاتھ میں لے اور قتل و غارت اور دھشت گردی کرتا پھرے۔اس کے بعد فرار ھو کر واپس پاکستان میں آچھپے اور دنیا بھر میں اپنے ملک کو شرمندہ کروائے۔ ان کے نزدیک ایسے افراد ھیرو ھیں۔ ان کی اس منطق کی بنیاد پر پاکستان کے جن نام نہاد سپوتوں نے دھشت گردی کے ذریعے دنیا بھر میں اس سرزمین کو ذلیل و خوار کیا ھے، وہ تمام بھی پھر ھیرو ھوئے۔ اگر اوریا مقبول جان کے فلسفے پر عمل کیا جائے، تو اس امر میں رتی بھر شبہ نہیں رھنا چاھئیے کہ پاکستان ایک عالمی دھشت گرد ملک ھے، جو دنیا بھر میں بدمعاشی، بدامنی اور قتل و غارت کرنے والے افراد کو اپنا ھیرو سمجھتا ھے۔ اگر یہ الزام اس قوم کو قبول ھے، تو بسم اللہ کیجئے اور اوریا مقبول جان کو امور سلطنت سونپ دیجئے۔

Orya - I

ذرا آگے چلئے، تو اوریا مقبول جان کا جذبہء جہاد و قتال سے بھرپور قلم یہ الفاظ اگلتا ھے

‘‘اسامہ بن لادن کی شہادت ابھی کل کی بات ھے۔۔۔’’

Orya - II

ناطقہ سر بگریباں ھے، اسے کیا کہیے؟ ایک عالمی دھشت گرد، جس نے دنیا بھر میں جہاد کے نام کو قتل و غارت کا ھم معنی بنا دیا، کی ھلاکت کو کالم نگار ‘‘شہادت’’ قرارددے رھے ھیں۔ امریکہ دشمنی اور طالبان پرستی، ایسے ھی تشدد پسند ذھن پیدا کرتی ھے، جو نہ صرف اسامہ بن لادن اور حکیم اللہ محسود کو، بلکہ امریکہ کے ھاتھوں ھلاک ھونے والے کتے کو بھی شہید قرارد دے ڈالیں۔

اوریا مقبول جان، کیا آپ کو معلوم ھے کہ اسامہ بن لادن، عالمی دھشت گرد تنظیم القاعدہ کا بانی تھا۔ کیا آپ جانتے ھیں کہ 1992ء میں جب سومالیہ میں پانچ لاکھ افراد قحط کے ھاتھوں مارے گئے، تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تابع وھاں ریلیف آپریشن کا آغاز ھوا۔القاعدہ نے اس مشن میں حصہ لینے کے لئے جانے والے امریکی فوجیوں کو مارنے کی غرض سے دو بم دھماکے کرائے۔ ان میں کئی زخمیوں کے علاوہ ایک آسٹریلوی سیاح اور ایک ھوٹل ملازم ھلاک ھوگئے۔ بعد میں القاعدہ نے ایک فتویٰ جاری کیا اور دھشت گردی کی اس کاروائی کو اسلامی حوالے سے درست قرارد دیا۔

کیا آپ کو معلوم ھے کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ھونے والے رمزی یوسف، جس نے 1993ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کرکے چھ افراد ھلاک اور ھزار سے زائد زخمی کئے، نے افغانستان میں واقع القاعدہ کے ٹریننگ سنٹر سے ٹریننگ لی تھی۔

کیا آپ کو یاد ھے کہ 1996ء میں اسامہ بن لادن نے امریکی صدر بل کلنٹن کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔

کیا آپ بھول گئے کہ 1998ء میں اسامہ بن لادن نے امریکی فوجیوں اور شہریوں کے قتل عام کا فتویٰ جاری کیا اور اسے مسلمانوں پر فرض قرار دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے القرآن الحکیم کی متعدد آیات بھی پیش کیں اور گویا ثابت کیا کہ (نعوذ باللہ) اسلام ایسی درندگی اور قتل و غارت کا حکم دیتا ھے۔

اوریا مقبول جان صاحب! کیا آپ فراموش کر گئے کہ 1998ء میں امریکی ایمبیسیوں پر حملوں میں القاعدہ نے سینکڑوں افراد کو ھلاک اور ھزاروں کو زخمی کیا۔

واضح رھے کہ القاعدہ کی دھشت گردی کی یہ چند مثالیں 9/11 کے سانحے سے پہلے کی ھیں۔ بعد میں ھونے والے فساد کے بارے میں سب ھی جانتے ھیں، لہٰذا ان کا ذکر پھر کسی وقت پر موقوف کئے دیتے ھیں۔ اسامہ بن لادن کو شہید قرارد دے کر اوریا مقبول جان نے ان تمام دھشت گرد کاروائیوں کو درست اور عین جہاد قرار دیا ھے۔ ھمیں امید ھے کہ وہ خود یا کم از کم وہ اپنے بچوں کو بھی ایسا ھی مجاھد بنانا پسند کریں گے۔ اگر آج بد قسمتی سے دین اسلام کو دھشت گردی سے منسوب کیا جاتا ھے یا اسلامی دھشت گردی کی تکلیف دہ اصطلاح وجود میں آئی ھے، تو اس کا سہرہ اوریا مقبول جان جیسے مبصرین اور ان کے پسندیدہ دھشت گردوں کے سر جاتا ھے۔

اپنے گمراہ کن کالم کو جاری رکھتے ھوئے موصوف، سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کو امت مسلمہ کا ملزم قرار دیتے ھوئے لکھتے ھیں

‘‘اگر یہ امت زندہ ھوتی، تو مشرف جمہوریت کے نہیں امت مسلمہ کے ملزم کی حیثیت سے کٹہرے میں کھڑا ھوتا۔۔۔’’

Orya - III

حیرت بالائے حیرت۔ اوریا صاحب! اگر یہ امت زندہ ھوتی، تو آج آپ کا نام و نشان بھی مٹ چکا ھوتا کہ کیسے دیدہ دلیری سے ایک شخص دین اسلام کا لبادہ اوڑھے، جھوٹ اور منافقت کی ملمع کاری کئے اس قوم کو فریب دے رھا ھے اور اپنے قلم کی آبرو بیچ کر ایک انتہا پسندانہ نسل کی آبیاری کر رھا ھے۔ اگر یہ امت زندہ ھوتی، تو آپ کو کبھی عالمی دھشت گردوں کو شہید کہنے کی جراءت نہ ھوتی۔اگر یہ امت زندہ ھوتی، توآپ کو کبھی میرے دین اور رسول برحق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پاکیزہ اور انسانیت پرست تعلیمات کو قتل و غارت سے آلودہ کرنے والی دھشت گردی کو جہاد کہنے کی جسارت نہ ھوتی۔ اگر یہ امت زندہ ھوتی، تو میرے پچاس ھزار ھم وطنوں کو شہید کرنے والی تحریک طالبان کی تعریف میں کالم لکھتے ھوئے اوریا مقبول جان کو بیس مرتبہ سوچنا پڑتا۔ اگر یہ امت زندہ ھوتی، تو موصوف کوشام میں بغاوت کرنے والے القاعدہ کے بے رحم جنگ جوؤں کو حضرت امام مہدی کا سپاھی قرار دینے کی ھمت نہ ہو پاتی۔ یہی تو رونا ھے کہ یہ امت زندہ نہیں۔ اس امت کا زندہ نہ ھونا ھی آپ جیسے بے ضمیر اور فریبی لکھاریوں کے لئے آکسیجن ھے۔

پرویز مشرف پر وار کرتے ھوئے اوریا مقبول جان لکھتے ھیں،

‘‘تم نے چار سو سے ذائد مسلمانوں کو پیسے لے کرآگے بیچااور پھر اس پر اتراتے بھی رھے۔’’

Orya - IV

آپ کی پیشہ وارانہ اور عیارانہ چال بازی پر افسوس۔ گویا آپ کے نزدیک پاکستان،کسی طوائف کا کوٹھا ھے کہ جب جس کا جی چاھے ، چلا آئے اور اپنی ھوس مٹا کر لوٹ جائے۔

محترم! پاکستان ایک جوھری طاقت ھے، کوئی عام رہ گزر نہیں۔ کسی غیر ملکی اور بالخصوص کسی بھی دھشت گرد کو ھرگز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سرحد عبور کر کے یہاں اپنی کمین گاھیں بنائے اور یہاں سے کسی دوسرے ملک میں تخریب کاری کرتا پھرے۔ کیا آپ مجھے یہ حق دیں گے کہ میں آپ کے گھر کا دروازہ پھلانگ کر آپ کی اجازت کے بغیر اندر داخل ھو جاؤں اور وھیں اپنا ڈیرہ ڈال کر بیٹھ جاؤں؟ افغانستان اور دوسرے ممالک سے عسکریت پسند اور دھشت گرد، بغیر کسی دستاویز کے غیر قانونی طور پر جب پاکستان میں داخل ھوں، تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جانا چاھئیے۔ یہی پرویز مشرف نے بھی کیا۔ اور ایسے دھشت گرد جن کی عالمی اداروں اور حکومتوں کی جانب سے باؤنٹی یا سر کی قیمت لگی ھوئی تھی، ان کو بر وقت کاروائی کر کے پکڑا گیا ۔ ایسے تمام دھشت گرد عناصرکو جب ان کے اپنے ممالک نے واپس لینے سے انکار کیا، تو انہیں ان عالمی اداروں یا حکومتوں کے حوالے کر دیا گیا، جنہیں وہ مطلوب تھے۔ ظاھر ھے کہ ایسا ھی کرنا چاھیئے تھا۔ مگر کیا کریں کہ اوریا مقبول جان، کمال معصومیت سے اسے ایک ھی جملے میں یہ کہہ کر ختم کردیتے ھیں کہ پرویز مشرف نے پیسے لے کر مسلمانوں کو آگے بیچا۔

In the line of fire - Page 237

حقائق سے کوسوں دور اور طفلانہ جذبات سے مغلوب کالم نگار آگے لکھتے ھیں

اس مملکت خداد پاکستان میں اور یہاں بسنے والی امت مسلمہ کے اخلاق و اقدار کو بگاڑنے، ان کے اندر فحش کو عام کرنے، ان کے مدرسوں اور مسجدوں پر ٹینکوں سے حملہ کرنے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو بموں کی آتش میں بھوننے کے الزامات اس سے سوا ھیں، لیکن ان پر کوئی آواز بلند نہیں کرتا۔

Orya - V

یہ جملے لکھتے ھوئے کالم نگار مبالغہ گوئی کی سیڑھی پر کافی اوپر تک چڑھے ھوئے محسوس ھوتے ھیں۔ بہتر ھوتا کہ وہ ان نام نہاد الزامات کی کچھ تفصیل بھی لکھ ڈالتے، تاکہ ھمیں اس کا تجزیہ کرنے میں سہولت رھتی۔ خیر،ھم اوریا مقبول جان صاحب سے یہ پوچھنا چاھیں گے کہ معصوم اور نا پختہ ذھنوں میں جنت کے باغات اور شہد کی نہروں کے کنارے پر بیٹھی ھوئی توبہ شکن حوروں کا اشتباہ انگیز تصور ڈالنے والوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ھے۔ ان حوروں کے لمس اور صحبت کو پانے کی ھوس میں خود کش حملہ آور بن جانا کیسا فعل ھے؟ اگر تو یہ سب بہت اچھا اور عین اسلامی ھے، تو آپ اس جہاد میں عملی طور پر حصہ کیوں نہیں لیتے۔ کیا آپ پر جہاد فرض نہیں ھے؟ کیا وجہ ھے کہ آج تک آپ کے کسی بیٹے نے جہاد کے میدان میں خود کش حملہ نہیں کیا یا تحریک طالبان کے وحشیوں کی طرح کسی کو زبح نہیں کیا؟

اور اگر یہ سب کچھ بہت برا اور غلط ھے اور اسلام کی تعلیمات کے منافی ھے، تو پھر آپ کا قلم ان نام نہاد جہادیوں اور خود کش حملہ آوروں کی تعریفیں کرتا تھکتا کیوں نہیں ھے؟ آپ کو پرویز مشرف کی وجہ سے امت مسلمہ کا اخلاق و اقدرابگڑتا ھوا تو دکھائی دیتا ھے، مگر مساجد، امام بارگاھوں، مزاروں، گرجا گھروں اور بازاروں میں دندناتے ھوئے خود کش حملہ آوروں سے دین اسلام کا چہرہ اور اقدار مسخ ھوتی محسوس نہیں ھوتیں؟

Lal Masjid

آپ کا ذھن رسا مدرسوں اور مساجد پر ٹینکوں سے حملے ھوتا ھوا تو دیکھ لیتا ھے، مگر افسوس کے ان کے اندر براجمان تکفیری دھشت گرد دکھائی نہیں دیتے۔ بات بے بات مذھب کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے دلیل کے طور پر استعمال کرنے والا کالم نگار ،مسجد ضرار کا واقعہ کیوں بھول جاتا ھے، جہاں میرے رسول صلہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا رب خود یہ کہتا ھے کہ اس مسجد سے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا رھا ھے۔

کیا موصوف اوریا مقبول جان کو یہ معلوم نہیں کہ لال مسجد اور ان جیسی کتنی ھی مساجد اور مدرسوں میں ھزاروں افراد کو دھشت گردی کی تربیت دی گئی اور پاکستان بھر میں خود کش حملے کرنے کے لئے پھیلایا گیا۔

Al-Quran - Surah Al-Tauba

پرویز مشرف کو امت مسلمہ کا مجرم قرار دیتے ھوئے اوریا مقبول جان یہ کیوں بھول جاتے ھیں کہ سورہ النساء میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ھے، ‘‘اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی اطاعت کرو۔’’ کیا کالم نگار کو یہ معلوم نہیں کہ پرویز مشرف اپنے دور حکومت میں پاکستان کے اولوالامر تھے؟ کوئی انہیں پسند کرے یا نہ کرے، ان کی پالیسیاں درست ھوں کہ غلط ھوں، ان سب سے قطع نظر، وہ اس مملکت کے صاحب اختیار تھے ۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ اسلام میں یونٹی آف کمانڈ کی کتنی اھمیت ھے۔ اگر آپ کی طرح ھر شخص اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر دوسروں پر یا حاکم وقت کے خلاف فتوے دینا شروع کر دے، تو کیا یہ وطن کی خدمت ھے یا قوم کو تقسیم کرنے کی سازش؟

Al-Quran - Surah Al-Nisa

کیا موصوف کو معلوم نہیں کہ سورہ المائدہ میں اللہ تعالیٰ ایک انسان کے قتل کو کل انسانیت کا قتل قرار دیتا ھے؟ کیا موصوف یہ نہیں جانتے کہ سورہ البقرہ میں فتنے کو قتل سے بھی بدتر جرم قرار دیا گیا ھے۔ کیا موصوف کو یاد دلانا پڑے گا کہ ان واضح احکامات کی موجودگی میں دھشت گرد کتنے قبیح جرائم کا ارتکاب کر رھے ھیں؟ کیا ایسے درندوں کو صرف اس بنیاد پر درگزر کر دیا جائے کہ وہ اوریا مقبول جان کے حمایت یافتہ ھیں یاموصوف کی خود ساختہ مذھبی تشریح کے مطابق کوئی بہت نیک فریضہ انجام دے رھے ھیں۔

ھمیں اس سے ھرگز کوئی غرض نہیں ھے کہ آپ پرویز مشرف سے اختلاف رکھیں اور اپنی تحریر کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کریں۔ ترقی پسند معاشرے میں آزادیء رائے کی بہت اھمیت ھے۔ تاھم ایسی صورت حال میں جب ھمارا ملک حالت جنگ میں ھے اور ھماری بقا خطرے کے نشان تک پہنچ چکی ھے، آپ کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ آپ اس قوم کو دھشت گردوں کی حمایت کے لئے اکساتے پھریں۔

Orya column - VIII

اوریا مقبول جان صاحب! اگر آپ میں انسانیت اور دین کی سچی رمق موجود ھوتی، تو آپ پرویز مشرف صاحب کے بارے میں ایسے لغو الزامات نہ لگاتے۔ اس کے برعکس، آپ دھشت گردوں کو امت مسلمہ کا مجرم قرار دیتے۔ ابھی بھی وقت ھے کہ سنبھل جائیے ۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے، تو کہیں ایسا نہ ھو کہ بروز حشر، آپ کے اوپر بھی کوئی فرد جرم عائد ھو جائے ۔ ڈرئیے اس وقت سے جب بذات خود آپ کوھی امت مسلمہ کا مجرم قرار دے دیا جائے۔ ایسا مجرم، جس نے قرآن کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے دھشت گردوں کو اپنا ھیرو قرار دیا اور اسلام کو دھشت گردی سے جوڑنے کے لئے اپنے قلم کی حرمت پامال کر ڈالی۔

The Noble Quran

( تحریر: سبز خزاں)

Advertisements
h1

جواب آں غزل ۔ یاسر پیرزادہ کی خدمت میں

January 16, 2014

(تحریر: فراز صدیقی، پی ایچ ڈی اسکالر، اسلام آباد)

بارہ جنوری کے روزنامہ جنگ میں میرے پسندیدہ کالم نگار یاسر پیرزادہ صاحب کا کالم،‘‘ آمریت کے تین مغالطے’’ نظر سے گذرا۔ کالم پڑھنے کے بعد مجھے گمان گزرا کہ شاید یہ تحریر میاں نواز شریف کے اس زر خریدکی ہے، جس کے کالم کی ہر تان نواز شریف کی مدح سرائی یا پرویز مشر ف صاحب کے خلاف زہر اگلنے پر ہی ٹوٹتی ہے اور تحریر کے درمیان میں سوائے اردو کی بہترین لفاظی کے کچھ نہیں ہوتا۔ مجھے گمان گذرا کہ شاید قلم فروش عرفان صدیقی کے کالم پر غلطی سے یاسرپیرزادہ کی لوح لگ گئی ہے ،لیکن جب فیس بک پر پیرزادہ صاحب نے اپنے اکاؤنٹ سے اس کالم کو اپ لوڈ کیا تو مجھے شدید دکھ اور افسوس ہوا کہ ا ب پیرزادہ صاحب جیسے لوگوں کے قلم سے اسطرح کے دلیل سے عاری ،تعصبی جذبات سے بھرپوررہیٹورک کالم پڑھنے کو ملیں گے۔

Yasir Pirzada

موصوف نے اپنے کالم کا آغاز انتہائی قابل احترا م سائنسدان اوراستاد پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب پر بالواسطہ طنزیہ تمہید سے کیا ہے ، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ پیرزادہ صاحب، استاد کو جو رتبہ اور مقام خدا نے عطاء کیا ہے، شاید تعصب کی نگاہ اور ذہن رکھتے ہوئے آپ اس مرتبے کو بھول گئے۔ عطاء الرحمن اور پرویز ہودبھائی جیسے قابل فخر اساتذہ کی سیاسی رائے سے اختلا ف کیا جا سکتا ہے، لیکن تحقیق اور علم کی ترویج کے لئے ایسے لوگوں کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔ اگر آپ علم نہیں رکھتے تو ڈاکٹر عطاء الرحمن کے سی وی کو ایک نظر ملاحظہ کر لیں اور دیکھیں کہ پاکستان کے اس سپوت نے سائنس کی دنیا میں کیا کیا کار ہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔نا صرف سائنس کی دنیا میں بلکہ وطن عزیز میں اعلی تعلیم کے لئے ڈاکٹر صاحب کی خدمات سے انکار کرتے ہوئے حقارت اور طنز سے انکا ذکر ایک تعصب سے لبریز ذہن ہی کر سکتا ہے کوئی علم دوست شخص نہیں۔

Dr. Ata-ur-Rehman II

آپکو ڈاکٹر صاحب پر شاید غصہ اس وجہ سے ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اعداد و شمار کے ذریعے صدر مشرف کے بہترین دور کو لوگوں کی یادداشت میں واپس لانے کی کوشش کی ہے۔وہ مشرف جو آپ کی، آپکے والد عطاء الحق قاسمی اور انکے سیاسی والد میاں نواز شریف کی آنکھوں میں اس بری طرح کھٹکتا ہے کہ مشرف صاحب کا نام پڑھ کر ہر طرح کی دلیل، منطق اور عقل اڑنچھو ہو جاتی ہے اور رہ جاتی ہے خالی خولی لفاظی جسکا مظہر، ‘‘ آمریت کے تین مضالطے’’ جیسی بوگس تحریریں ہیں۔

یاسر صاحب! اب آتے ہیں جناب کے کالم کا پوسٹ مارٹم کرنے کی طرف۔

قابل احترام استاد ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب کا طنزیہ اور حقارت آمیز تذکرے کے بعد موصوف فرماتے ہیں کہ،
‘‘فرض کر لیتے ہیں کہ مشرف دور اچھا تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ناجائز بچے کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟ناجائز اولاد ناجائز ہی ہوتی ہے چاہے کتنی خوبصورت ہو ۔’’

محترم! ذرا مجھے یہ بتائیے کہ ناجائز بچہ (فوجی دور) زیادہ قابل نفرت ہے یا اسکو دنیا میں لانے والے (نا اہل او رجاہل سیاستدان)؟ رہی بات نا جائز کو جائز قرار دینے کی، تو ناجائز اولاد‘‘ چوھدری افتخار میٹرنٹی ہوم’’ سے اپنا پیدائشی سرٹیفیکیٹ اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی جائز اور تصدیق شدہ ولدیت بھی لے آئی تھی ، اور چونکہ یہ سب آئین اور قانون کے تحت صحیح ہوا تھا تو اس پر موجودہ حکومت کو بھی کوئی اعتراض نہیں اور موجودہ حکومت میں کوئی اور نہیں بلکہ آپکے سیاسی اجداد براجمان ہیں۔ اسی لئے چوہدری افتخار میٹرنٹی ہوم میں بیٹھے ہوئے اس وقت کے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی بلکہ میرنٹی ہوم کے مالک ،جس نے ناجائز اولاد کو ولدیت دی، کو بچانے کیلئے مشرف صاحب کے ٹرائل کے ڈرامے کو تین نومبر سے شروع کیا جا رہا ہے کہ کہیں ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو۔

اسکے بعد موصوف رقم طراز ہیں، ‘‘آئین توڑ کر اپنی مرضی کا پی سی او نافذ کرنا اور عدالتوں سے گن پوائنٹ پر اپنی وفاداری کا حلف لینا۔۔۔۔’’

حضور ذرا یہ توبتائیں کہ یہ خبر کب رپورٹ ہوئی کہ پی سی او کا حلف گن پوائنٹ پر لیا گیا تھا؟؟؟؟ اس طرح کی بے سروپا باتیں کر کے آ پ کسی ناجائز کو جائز قرار دینے والے کو بچانے کی کوشش تو نہیں کر رہے ؟؟؟ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو، بھائی کو سنگسار نہ کرو، بھائی کی ناجائز اولاد کو مار دو ۔۔۔۔ واہ میرے شیر۔ ہور کی حال اے؟؟؟؟

بارہ اکتوبر کے بعد کی عدالتوں نے جن میں موصوف افتخار محمد چوہدری مدظلہ ،جن کے دامن کو نچوڑیں تو فرشتے وضو کریں، بھی شامل تھے خوشی خوشی پی سی او پر حلف اٹھایا تھا،کسی نے کسی سے گن پوائنٹ پر حلف نہیں اٹھایا۔ جن کو اپنے حلف کی آبرو کا احساس تھا انہوں نے پی سی او پر حلف اٹھانے سے گریز کیا اور با عزت ریٹائر ہوئے اور جن کی آبرو باختہ کوکھوں نے ناجائز اولاد وں کوجنم دینا تھا انہوں نے خوشی خوشی اپنا یہ کردار قبول کیا، افتخار محمد چوہدری سمیت اس وقت کی عدلیہ نے پی سی او پر خوشی خوشی حلف اٹھایا ، یاسر بھائی میرے لیڈر پرویز مشرف پر اگر ایک انگلی اٹھائی جاتی ہے تو باقی تینوں انگلیوں کا رخ آپکے قبیلے کی طرف ہوتا ہے۔ سمجھے میرے بھائی۔۔۔۔ہور کی حال اے؟؟؟؟

اسکے بعد موصوف نے دوسرا مغالطہ بیان کیا کہ اور ایک لمبی چوڑی فضول تمہید باندھتے ہوئے کہا کہ اگر فوجی چاند توڑ کر لادے تو بھی مجھے قبول نہیں اسکے بعد خود کو اٹھارہ کروڑ عوام سمجھتے ہوئے فتوی صادر کر دیا کے پاکستان کی عوام کو بھی فوجی حکومت قبول نہیں چاہے وہ کچھ بھی کر دے۔۔۔

Hassan Nisar

یاسر پیرزادہ صاحب۔۔۔ عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ آپکے سیاسی آباؤ اجداد کی ننگی جمہوریت ہو یا فوجی حکومت۔ہمیں اپنی ترقی چاہئے ۔اپنے مسائل کا حل چاہئے جن کو یقیناًپرویز مشرف نے حل کیا تھا آپکے سیاسی آباؤ اجداد ضیاء دور سے عوام کی ہڈیاں نچوڑ رہے ہیں اور ان کے پیٹ ہیں کہ نا بھر رہے ہیں نا پھٹ رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ آپ کے گھرانے کو جمہوریت کی فیوض و برکات کے نتیجے میں کہیں کی سفارتکاری ملی ہو لیکن عوام کو اس ننگی اور بے شرم جعلی جمہوریت سے کچھ نہیں ملا ۔ ہمیں مشرف دور میں نوکریاں ملیں ، اسکالرشپس ملیں، ہمارا زندگی کا رہن سہن کا معیار حد درجے بہتر ہوا، بنک ہمیں فون کر کے قرضے آفر کرتے تھے ، ہم موٹر سائیکل سے کار پر آگئے ، درمیانے درجے سے اعلی درمیانے درجے کے ہوگئے ، اس دور میں ہماری قوت خرید بڑھی، ہماری سیونگز بڑھیں، ہمیں سی این جی پورے ہفتے ملتی تھی کبھی لائن میں لگے ذلیل نہیں ہونا پڑا، گیس و بجلی لوڈ شیڈنگ نہیں تھی ،ڈیم بن رہے تھے،یونیورسٹیز بن رہی تھیں ،پاکستان کا اسٹاک ایکسچینج بلندیوں کو چھو رہا تھا،ہائی ویز کا جال بچھایا جا رہا تھا، صنعتیں ترقی کر رہی تھیں، دفاع مضبوط سے مضبوط ہو رہا تھا، میڈیا اور ٹیلی کمیونیکیشن تیزی سے ترقی کر رہا تھا،غیر ملکی سرمایہ دھڑا دھڑ آرہا تھا، میں نے کئی دفعہ مشرف صاحب کے منہ سے سناکہ خزانہ میں پیسہ بہت ہے پروجیکٹ بتاؤکون سا شروع کرنا ھے۔ دوسری طرف، کسی جمہوری حلالی کے منہ سے میں نے خزانہ خالی ہونے کی دہائی کے علاوہ کبھی کچھ نہیں سنا۔ پہلے ہمارے پاسپورٹ کی دنیا میں عزت تھی ، ہمارے ملک کے اس وقت کے سربراہ اور میرے قائدپرویز مشرف کی دنیا میں آج تک عزت ہے، جبکہ آپکے سیاسی آباؤاجداد کو غیر ملک چھوڑیں ،کبھی کسی ملکی یونیورسٹی نے اس قابل نہیں سمجھا کہ اسے لیکچر دینے کیلئے بلائیں۔ میرا قائد پرویز مشرف، غیر ملکی قائدین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرتا تھا، جبکہ آپکے سیاسی جد امجد کی امریکی صدر کے سامنے پرچیاں پڑھنا بذات خود ایک شرم کا مقام ہے کہ کیسا شخص اس ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہے۔رہی بات مسخ شدہ لاشوں کی ، تو آپکے پاس کو ئی ثبوت نہیں کہ مسخ شدہ لاشیں فوج کی طرف سے آتی ہیں۔عین ممکن ہے کہ ایسی حرکتیں علیحدگی پسند فوج کوبدنام کرنے کیلئے خودکرتے ہوں ۔۔۔ ہو رکی حال ہے؟؟؟

اسکے بعد میرے پسندیدہ کالم نگار نے بڑے مزے کی بات کی ہے کہ ،‘‘جس سوشل کانٹریکٹ کا میں حصہ ہوں وہ مجھے اپنے نمائندے چننے کا اختیار دیتی ہے ۔۔۔۔’’

یاسر بھائی! آ پ کو خدا کا واسطہ، اپنے دل پر ہاتھ رکھیں اور ایمانداری سے یہ بتائیں کہ موجودہ حکومت کتنی جمہوری اور آئینی ہے؟ اتنی کہ اگر عمران خان انگوٹھے چیک کرنے کا مطالبہ کرے توان کی شلواریں گیلی ہوجاتی ہیں ، نادرا کے چیئرمیں کو جبری برطرف کیا جاتا ہے جب وہ عدالت جاتا ہے اور اسے با عزت بحال کر دیا جاتا ہے تو دھمکیاں دے کر سبکدوش ہونے پر مجبور کر دیا جاتا ہے ، یہ ہے آپکی جمہوریت اور آپکے نمائندے یاسر پیرزادہ صاحب؟ موجودہ حکومت ایک جعلی خودساختہ حکومت ہے،جسکا جنم بھی اتفاق سے افتخار چوہدری میٹرنٹی ہوم کا مرہون منت ہے، جس کا جمہوریت سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں۔ ان ڈھکوسلوں سے آپکا دل بہل سکتا ہوگا ہمارا نہیں، آپکو ایسی جمہوریت کے حق میں کلمہ خیر کہنے سے شائد سفارتکاری وغیرہ دوبارہ مل سکتی ہے۔ مگر اس غریب عوام کو کچھ نہیں ملنا، دوسری بات غریب لوگوں کا لیڈ ر کبھی کوئی سرمایہ دار،جاگیردار یا صنعتکار ہو سکتا ہے ؟؟ کیا بات کرتے ہیںیاسر صاحب آپ؟؟؟

اسکے بعد یاسر صاحب ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب سے ایک سوال داغ دیتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر صاحب کا بیٹا غائب ہو جائے تو کیا وہ ڈالر باسٹھ روپے کا ہونے کا جشن منائیں گے؟؟؟؟

میرا سوال یاسر پیرزادہ سے یہ ہے کہ میں اور آپ کیوں گم شدہ افراد کی فہرست میں شامل کیوں نہیں؟ یا میرے اور آپ کے ارد گرد جتنے لوگ ہیں ان میں دور دور تک کوئی لا پتہ فرد شامل نہیں ایسا کیوں ہے؟ سیدھا جواب یہ ہے کہ میں نے اور آپ نے ایسی کوئی حرکت ہی نہیں کی جسکے نتیجے میں ملکی دفا ع پر مامور ایجنسیاں ہماری طرف متوجہ ہوں۔ یہ لا پتہ افراد جب گل کھلا رہے تھے ان کے گھر والوں کو اس وقت ان کی فکر ہونی چاہئے بعد میں لکیر پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، ببول کے درخت پر گلاب نہیں اگتے ، جیسی کرنی ویسی بھرنی ، میرا کامل یقین ہے کہ اس ملک کی ایجنسیاں جب تک پکی معلومات نا ہوں کسی پر ہاتھ نہیں ڈالتیں۔ شریف لوگ آج بھی اپنے گھروں میں آرام سے اپنی فیملیز کے ساتھ رہ رہے ہیں۔جیسا کہ ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب کے بچے، میں اور آپ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

یاسر بھائی! ذرا مجھے آپ یہ بھی بتا دیں کہ پاکستان کی آبادی کا کتنا فیصد اس وقت لا پتہ ہے؟؟؟یقیناًیہ شرح اعشاریہ صفر صفر صفر صفر ایک فیصد سے بھی کم ہو گی، جناب کیا دور کی کوڑی لائے ہیں کہ چونکہ اٹھارہ کروڑ عوام میں سے دو ڈھائی سو بندہ غائب ہے اسلئے ہم یہ نتیجہ اخذ کر لیں کہ مشرف نے کچھ نہیں کیا اور مشرف کے تمام اچھے کام جن کا ذکر ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب نے اپنے کالم میں کیا اسے بہ یک جنبش قلم مسترد کردیں۔ معذرت کے ساتھ یاسر صاحب ،ہمارے باپ کی سفارتکاری مشرف صاحب نے نہیں چھینی اور ہم نا شکرے بھی نہیں۔اس لئے آپکی اور ن لیگ کی ہمنوائی ممکن نہیں، میرے لیڈر پرویز مشرف نے اس ملک کواپنے خون پسینے سے ترقی دی ،جسے آپکے سیاسی آباؤ اجداد نے پھر ایڑیاں رگڑنے پر مجبور کر دیا ہے ۔۔۔ ڈالر ۸ سال تک باسٹھ روپے پر برقرار رکھنا مشرف حکومت کا یقیناًایک کارنامہ تھا جسکا ہر معاشی شد بد رکھنے والا شخص اعتراف کرتا ہے ، آپکے مسترد کرنے سے کچھ نہیں ہوتا میرے بھائی ۔میرا لیڈر پرویز مشرف ایک انتہائی باصلاحیت شخص ہے جسکی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ، اور انشاء اللہ وہ دن اللہ جلد لائے گا جب وقتی فرعونوں کی نام نہاد عدالتوں سے میرا لیڈر سرخرو ہو کے باہر نکلے گا اور اس ملک کی دوبارہ خدمت کرے گا۔ گاؤدی اور چغد لوہار وں کو لیڈر بنانے سے بہتر ہے پاکستان فوج کے سپہ سالار کو اپنا لیڈر بنایا جائے اور میں اس میں فخر محسوس کرتا ہوں۔

Dr. Ata-ur-Rehmanآخری گزارش یہ ہے جناب پیرزادہ صاحب کہ کاش اس ملک میں واقعی عدالتی نظام شفاف ہو جائے ۔اگر ایسا ہو جائے تو آپ کے نام نہاد جائز جمہوری سپوتوں کی ہڈیوں کو بھی اس پاک سرزمین میں دفن ہونے کے جگہ نہیں ملے گی کہ انکے جرائم کی فہرست نہایت بھیانک ہے۔۔۔

جئے مشرف۔۔صدا جئے۔۔ہور کی حال اے یاسر بھائی۔۔۔

بشکریہ: سالار ملت بلاگ

h1

The Dark Side of Iftikhar Chaudhry

January 16, 2014

(Written by Afaq)

On 12th December 2013, Iftikhar Chaudhry marked the end of his eventful years as a chief justice of Pakistan.

Charles de Gaulle said, “The cemeteries of the world are full of indispensable men.” Hence, people took the charge, perform their responsibilities and leave. Then this is up to the history to judge their role and legacy.

CJ Exposed IVFormer chief justice Iftikhar Chaudhry, otherwise considered as a man of courage and vision by many, will sadly be remembered as a media conscious man who escaped from the charges of nepotism and misconduct by taking refuge in highly politicized lawyers’ movement and the one, who believed more in personal vendetta than emerging as an impartial custodian of justice.

If politicians are not doing well, they can be rejected in the elections or summoned in the court. If military coup is undesirable, the military ruler can be trialled. What about the chief justice of the country? Is he above the law? No, he doesn’t. Is he not accountable to anyone? Yes, he is. There is Supreme Judicial Council to investigate the charges against the judges, as clearly mentioned in the Article 209 of the constitution. On 09th March, 2007, the then President filed a reference to the SJC against Iftikhar Chaudhry on the advice of the then Prime Minister. While he didn’t resign, he also didn’t face the inquiry. He took the cover of the media and politicized lawyers’ movement and made the SJC irrelevant.

A file photo dated, 30 June 2005 releaseIt is claimed that he stood against a military ruler and refused to resign – something that made him a hero overnight. But ironically, he himself remained the one who legitimated the same ruler.

Let’s correct the record. Nawaz Sharif’s era was corrupt and ineffective “one man rule” and his overthrown on 12thOctober, 1999 was justified. This is what the Supreme Court of Pakistan ruled on 13th May, 2000. His Excellency Iftikhar Chaudhry was one of the judges of that 12-member court and favored the military coup.

Not only this, he was one of the nine judges of the bench that validated the Proclamation of Emergency dated 14th October, 1999 and PCO-I as well as the referendum.

He marked his presence in the 5-member bench that validated the legal framework order issued by Musharraf.

He was also the part of 5-member bench that gave judgment in the favour of Musharraf’s uniform and the seventeenth amendment.

Iftikhar Chaudhry was the chief justice at the time when the Supreme Court allowed Musharraf to re-elect in uniform in 2007.

If the constitution of Pakistan was violated on 12th October, 1999 and if that’s the act of treason, then Iftikhar Chaudhry should also be trialed for high treason under the Article 6 (clause 2) of the constitution.

His legacy doesn’t end here.

While he over exercised his authority to take suo-moto notices under the Article 184 (3), he was more concerned about setting market price of samosa and sugar, the possessions of Atiqa Odho and issuing a contempt of court notice to PTI chief. However, the Hazara killing, the persecution of minorities, the suicide bombers, sectarian militant organisations, misuse of blasphemy laws and the atrocities of terrorism – all went unchecked.

CJ Exposed IPakistan has lost almost 50,000 lives in terrorist attacks, but the judiciary failed to prosecute the terrorists. They kept getting acquittal from the courts and kept continuing their anti-state activities. This free service rewarded him appreciation from the miscreants.

During his term, lawyers turned into black coat hooligans. For instance, the assassin of governor Punjab wasshowered by roses in the premises of the court. The ATC judge who gave verdict against him got harassed by the lawyers.

Lawyers were not always violent during his term; they enjoyed the lighter side of life as well. Lahore High Court bar witnessed the dance performance on Sheila ki jawani and the lawyers partied.

This all went unnoticed.

CJ Exposed IIIOn the other hand, he turned a blind eye to the corruption of his son. Even though he took suo moto notice,Supreme Court reversed its position at least three times and finally disposed of the case calling it a personal matter between Arsalan Iftikhar and Malik Riaz.

Iftikhar Chaudhry ruled against the security protocols of the former ministers while himself enjoying the unit of 40-50 security personnel. He asked for police escort and a bullet proof vehicle for security soon after his retirement citing that he was under threat.

He questioned the loyalty of overseas Pakistanis, while keeping mum over the judges with dual nationalities.

He dismissed the elected prime minister showing lack of restraint.

He kept interfering in the affairs of state, and focused less on improving the judiciary – his prime responsibility. The corrupt practices of judges and violent activism of lawyers grew by leaps and bounds. More than 1.5 million cases are still pending in the courts and there is no hope for the speedy justice.

This brief article couldn’t sum up his entire term. In retrospect, he had a golden opportunity and absolute authority to fix the bugs within the judicial system and turning it into a viable institution, but his vindictive behavior made things worse. He had public and media support behind him, he could do this, but alas, he didn’t.

Source: Ibtidah

%d bloggers like this: